پنجاب بورڈ کے نتائج کہیں خوشی کہیں غم
کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی سٹوڈنٹ کے 100 میں سے 102 نمبرز آگئے، چلیں کبھی یہ سنا کہ کسی سٹوڈنٹ نے امتحان میں غیر حاضری لگائی لیکن رزلٹ کارڈ پر اس کے نمبرز پورے پورے لگا دئیے گئے، چلیں یہ ہی بتا دیں کہ آپ نے کبھی سنا ہو کہ کسی بورڈ میں بچے کے مجموعی نمبرز پورے آگئے یعنی 1100 میں سے 1100 اور یہ کسی ایک دو کہ ساتھ نہیں پورے صوبے کے 600 بچوں کے ساتھ ہو خیر یہ خوبصورت لمحات چند روز قبل خیبر پختون خواہ کی قندیل کو بھی دیکھنے کو ملے جب خبر آئی کہ ان کے نمبرز 1100 میں سے پورے 1100 ہی آگئے لیکن بعد میں جب کے پی حکومت کو ہوش آیا تو بیٹھا دی پوری ایک انکوائری ٹیم جس کا کام تھا تفتیش کرنا اور یہ جاننا کہ اس طالبہ لے پورے پورے نمبر کس طرح آگئے لیکن میرا خیال ہے کہ بزدار سرکار کو اب اس کے لیے کئی انکوائری کمیشن بنانے پڑیں گے کیونکہ ڈھیر بچوں کے ڈھیر نمبرز آنا باعث دکھ نہیں غمزدہ تو اس بات نے کر دیا کہ میٹرک میں 1 ہزار سے زائد نمبرز لینے والے کئی سٹوڈنٹس اس بات آکر سیدھا 35 فیصد پر آگرے یقینا یہ قیامت کا ہی سماں ہوگا جب دن رات محنت کے بعد پورے پراعتماد انداز میں میٹرک کے ٹاپر نے اپنا نتیجہ چیک کیا ہوا اور آگے کچھ اور ہی کہانی اس کے نام کی جاچکی ہوگی، اب معاملہ یہ بھی ہے کہ نومبر میں کیا سب متاثرہ سٹوڈنٹس کو امپروومنٹ کا چانس مل سکے گا، سوال یہ بھی ہے کہ مان لیں کہ چانس ملا اور بچے امپروومنٹ کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو کیا جامعات بچوں کے لیے دوبارہ سے داخلوں کو کھولنے کا اعلان کریں گی کیا پاکستان میڈیکل کمیشن 10 فروری تک میڈیکل کالجز میں داخلوں کی مہلت پر عمل درآمد کروا سکے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو وفاقی وزیر شفقت محمود کے تمام وعدے وجیہہ قمر کی اسمبلی فلور پر تقاریر، بین الالصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس، آئی پی ایم سی اور پی بی سی سی سب بے سود ہوگا کیونکہ بچوں کا ایک سال ضائع ہوچکا ہوگا اور حکومت پر بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کا الزام بھی لیکن ساری صورتحال میں نقصان جس فریق کا ہوگا وہ اس ملک کا مستقبل یعنی سٹوڈنٹس ہونگے کیونکہ سندھ میں تو حالات بدتر تھے ہی لیکن تعلیمی نظام پر مضبوط گرفت رکھنے کے دعویدار اب پنجاب بورڈز بھی سوالیہ نشانات کا شکار ہیں، سٹوڈنٹس کی جانب سے میٹرک کے نمبرز کی طویل فہرستیں دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ میٹرک کے ہیرو انٹر کے زیرو کیسے بنے، اندازوں کی بنیاد پر لگائے گئے نمبرز میں کئی اہم غلطیاں واضع طور پر دیکھی جاسکتی ہیں، فزکس کیمسٹری بائیولوجی میں ایک سے نمبر آنا ہو یا میٹرک انٹر میں ایک سے مارکس ہوں سب واضع ہوچکا کہ پنجاب بورڈز کو یا رزلٹ پر نظر ثانی کرنی ہوگی یا نومبر میں دوبارہ موقع، گوجرانوالہ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ تو واضع کر ہی دیا گیا کہ تمام سٹوڈنٹس جو اپنے مارکس سے مطمئن نہیں وہ دوبارہ ہونے والے امپروومنٹ امتحانات میں پیپر دے سکیں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک تباہ کن بیان بھی داغ دیا گیا کہ امپروومنٹ کی خواہش رکھنے والے سٹوڈنٹس کو پہلے اپنا موجودہ رزلٹ کینسل کروانا پڑے گا بعدازاں ایک تحریری بیان جس میں ریگولر سٹوڈنٹس کے تعلیمی اداروں کے سربراہ یا پرائیویٹ سٹوڈنٹس کو والدین کا بیان حلفی لف کرنا لازمی ہوگا، اب معاملہ کچھ یوں بن چکا کہ ایک بار بورڈ کی جانب سے دغا کیے جانے کے بعد سٹوڈنٹس کو خدشہ ہے کہ دوبارہ دئیے گئے امپروومنٹ کے امتحانات میں مارکس نہ آنے کی صورت میں وہ نہ ادھر کے رہیں گے نہ ادھر کے
Comments
Post a Comment