ایم ڈی کیٹ اور سٹوڈنٹس کا احتجاج
کورونا کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا بھر کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی وہیں دوسری جانب سب نے دیکھا کہ وبا کی وجہ سے تعلیمی نظام بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا، زیادہ متاثرہ ممالک کی جانب سے ابتدائی طور پر تو تعلیمی اداروں کو بند کرکے سٹوڈنٹس کو چھٹیاں دیکر فلاح جانی گئی لیکن بعد میں جب معاملہ ختم نہ ہوتا دکھائی دیا تو آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم کے سفر کو جاری رکھنے کی کوشش کی گئی، فائیو جی ٹیکنالوجی کے اس دور میں ٹیکنالوجی کی طاقت سے لیس اہم ممالک میں تو یہ ماڈل کامیاب رہا لیکن پاکستان جیسے کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ ماڈل پوری طرح شائد کامیاب نہ ہو سکا، اس کے اثرات تب دیکھے گئے جب آن لائن کلاسز کے بعد سٹوڈنٹس سے فزیکل امتحانات لینے کا سلسلہ شروع ہوا تو بچے بجائے امتحان دینے کے سڑکوں پر حکومت مخالف تحریکیں شروع کرتے نظر آئے، یہ ہی معاملہ مستقبل میں ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھنے والے میڈیکل سٹوڈنٹس کے ساتھ بھی پیش آئے کہ جب وہ پی ایم ڈی سی سے پی ایم سی بننے والے ریگولیٹری ادارے کے نئے ایم ڈی کیٹ کا آن لائن ٹیسٹ دینے بیٹھے تو کسی امتحانی مرکز میں وائی بند ہونے کی شکایات کی گئیں تو کہیں بجلی کی آنکھ...